تازہ ترین

اہور میں حالیہ سیلاب کے باعث بے گھر ہونے والی خواتین اور بچے ریلیف کیمپوں میں بھی مشکلات سے دوچار ہیں۔ جن علاقوں میں سیلاب نے تباہی مچائی ہے، وہاں ہر شخص متاثر ہوا ہے، مگر ریلیف کیمپوں میں رہائش پذیر خواتین کے مسائل نہایت تشویشناک ہیں۔

خواتین کی مشکلات
ریلیف کیمپوں میں پناہ لینے والی خواتین نے شکایت کی ہے کہ انہیں عارضی چھت تو مل گئی، لیکن بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ کیمپوں میں بیت الخلا کی سہولت نہ ہونے کے برابر ہے، اور جو موجود ہیں وہاں لمبی قطاریں اور صفائی کی ناقص صورتحال معمول بن چکی ہے۔ انہیں کھلے کھیتوں یا خالی جگہوں پر جانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خواتین کی مخصوص ضروریات سے متعلق بھی کسی قسم کا انتظام موجود نہیں، جو ان کی مشکلات کو مزید بڑھا رہا ہے۔

بچوں کی حالت تشویشناک
کیمپوں میں مقیم بچوں میں جلدی بیماریوں اور خارش کے ساتھ دیگر وبائی امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ چوہنگ کے ایک ریلیف کیمپ میں ایک دو ماہ کے شیر خوار کی آنکھوں سے خون آنے کی شکایت سامنے آئی ہے۔ ماؤں کا کہنا ہے کہ اس سنگین صورتحال میں نہ تو انہیں رہنمائی مل رہی ہے اور نہ ہی کوئی مؤثر طبی امداد۔

حفظان صحت کی صورتحال
متاثرین کا کہنا ہے کہ ریلیف کیمپوں میں صفائی ستھرائی کا کوئی مناسب انتظام نہیں، جس کی وجہ سے نہ صرف بیماریاں پھیل رہی ہیں بلکہ دستیاب ادویات بھی اثر نہیں دکھا رہیں۔

Leave A Comment

Advertisement