آرٹیکل 10 اے کے تحت فیئر ٹرائل بنیادی حق ہے، سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ فیئر ٹرائل کا حق آئین کے آرٹیکل 10اے کے تحت ایک بنیادی حق بن گیا ہے۔ مناسب قانونی عمل ایک لازمی شرط ہے جس کا ہر سطح پر احترام کیا جانا چاہیے۔فیئر ٹرائل کا حق اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ کسی کو اس وقت تک سزا نہیں دی جانی چاہیے جب تک کہ اسے جواب دینے اور اپنا مقدمہ پیش کرنے کا مناسب اور منصفانہ موقع نہ دیا جائے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے نجی افراد اور متروکہ وقف املاک بورڈ کے درمیان جائیداد کے تنازع سے متعلق کیس کے تحریری فیصلے میں کہا کہ قانون کے تحفظ سے مستفید ہونااور قانون کے مطابق سلوک کیا جانا ہر شہری کا ناقابلِ تنسیخ حق ہے۔آرٹیکل 4 کا مقصد قانون کے سامنے برابری یا قانون کے یکساں تحفظ کے اصول کو نافذ اور مربوط کرنا ہے، مناسب قانونی عمل کے بغیر کسی بھی شخص کی زندگی اور آزادی کو نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔قدرتی انصاف کے اصولوں کا تقاضا ہے کہ ملزم کو سزا دینے سے پہلے اپنا موقف پیش کرنے کیلئے منصفانہ موقع دیا جائے۔ ہمارے آئین میں فیئر ٹرائل کا حق آرٹیکل 10 ایکے تحت ایک بنیادی حق بن گیا ہے۔تمام عدالتی، نیم عدالتی اور انتظامی حکام کے لیے یہ ایک ناگزیر ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کی حکمت اور دانش کے مطابق انصاف کو یقینی بنائیں۔
درخواست گزار یامین اینڈ کمپنی کو1992 میں کراچی میں 16481 سکوائر فٹ اراضی 99 سالہ لیز پر دی گئی تاہم2020 میں مدعا علیہ نمبر6 نے اس الزام کے تحت منسوخی کا نوٹس جاری کردیا کہ وہ لیز جعلی تھی، سندھ ہائیکورٹ نے انکی درخواست مسترد کردی تھی تاہم سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم کرتے ہوئے معاملہ چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ کو بھیج دیا کہ وہ فریقین کو سن کر تین ماہ میں فیصلہ کریں۔
Leave A Comment