تازہ ترین

پاکستان نے ایک بار پھرآئی ایم ایف کی جانب سے گورننس اور انسدادِ بدعنوانی فریم ورک میں موجود خامیاں دور کرنے کیلیے تکنیکی معاونت مشن بھیجنے کی پیشکش مسترد کر دی ہے۔7 ارب ڈالرکے بیل آؤٹ پیکج کے جائزہ اجلاس کے دوران آئی ایم ایف نے یہ پیشکش دہرائی، تاہم وزارتِ خزانہ نے مؤقف اختیارکیاکہ حکومت کے پاس 142 نکاتی ایکشن پلان پر عملدرآمدکیلیے اندرونی صلاحیت موجودہے۔ اس سے قبل بھی آئی ایم ایف پاکستان میں گورننس مضبوط بنانے اور بڑھتی ہوئی بدعنوانی کے چیلنج سے نمٹنے کیلیے تکنیکی معاونت کی خواہش ظاہرکرچکاہے،حکومت پہلے ہی برطانیہ کے فارن،کامن ویلتھ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس سے اس ایکشن پلان پر عملدرآمد میں معاونت حاصل کررہی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کی شرط پوری کرنے کیلیے 59 ترجیحی اور 83 تکمیلی اقدامات پر مشتمل اصلاحاتی منصوبہ جاری کیا تھا، جن پر آئندہ تین برس میں عملدرآمدکیاجانا ہے۔اس سے قبل حکومت نے کرپشن ڈائیگناسٹک رپورٹ تقریباً دو ماہ کی تاخیر سے اس وقت جاری کی جب آئی ایم ایف نے 1.2 ارب ڈالرکی قسط کی منظوری کیلیے اسے پیشگی شرط قرار دیا۔

گلوبل تھنک ٹینک نیٹ ورک کی حالیہ رپورٹ میں آئی ایم ایف کی تشخیصی رپورٹ کو تجزیاتی طور پر مضبوط اور غیر معمولی حد تک واضح قرار دیاگیا،جس میں اہم امورکو نظراندازکیاگیا۔

Leave A Comment

Advertisement