فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو 8 ماہ میں 450 ارب روپے کا شارٹ فال
وفاقی حکومت کو رواں مالی سال 26-2025 کے پہلے آٹھ ماہ(جولائی تافروری) کے دوران محصولات کی وصولی میں 450 ارب روپے کے بڑے شارٹ فال کا سامناہے، جس سے محصولات کے ہدف میں دوسری بار کمی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اس عرصے میں تقریباً 8.1 کھرب روپے ٹیکس جمع کیا،جو نظرثانی شدہ ہدف سے 450 ارب روپے کم ہے،جبکہ اصل ہدف کے مقابلے میں یہ کمی 670 ارب روپے بنتی ہے۔ابتدا میں ایف بی آرکا سالانہ ہدف 14.13کھرب روپے مقررکیاگیاتھا،جسے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے بعد 216 ارب روپے کم کیاگیا۔ اب ایف بی آر نے ہدف میں مزیدنمایاں کمی کی تجویزدی ہے،جس پر آئندہ ہفتے آئی ایم ایف سے بات چیت متوقع ہے۔حکومت نے محصولات کی کمی پوریکرنے کیلیے پیٹرولیم لیوی کی شرح میں اضافہ اور ترقیاتی اخراجات میں نمایاں کٹوتی کی ہے، تاکہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ بنیادی بجٹ سرپلس کا ہدف حاصل کیاجاسکے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ اقدامات مالی استحکام کامصنوعی تاثر دے رہے ہیں۔
Leave A Comment