سوشل میڈیا پر ترنول پھاٹک کو "آبنائے ہرمز" کہنے پر شہری کے خلاف مقدمہ درج، اسلام آباد پولیس نے گرفتار کرلیا
سوشل میڈیا پر اسلام آباد کی ترنول پھاٹک کو آبنائے ہرمز سے تشبیہہ دینے پر اسلام آباد کی تھانہ ترنول پولیس نے شہری کو گرفتار کرکے اس کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ۔ تھانہ ترنول میں اپنی مدعیت میں درج ہونیوالے مقدمے کے متن میں پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک خبر گردش کررہی تھی کہ" ترنول پھاٹک بھی آبنائے ہرمز سے کم نہیں، اسے اگر بند کردیا جائے تو ہمارے سارے مسئلے حل ہوجائیں گے" یہ دیکھنے کے بعد فیلڈ میں موجود پولیس ٹیم فوراً ترنول چوک پہنچی جہاں لوگوں سے تصدیق کی گئی تو پتہ چلا کہ یہ پوسٹ ڈھوک پراچہ کے "خ" نے لگائی۔پولیس نے اپنی کہانی کو تکمیل کی طرف بڑھاتے ہوئے مزید لکھا کہ مخبر خاص کی اطلاع پر ملزم کو فوراً تحویل میں لیا اوراس کے موبائل فون کی تلاشی لی تو مذکورہ پوسٹ کی تصدیق ہوگئی جس کے بعد اسے تحویل میں لے کر تھانے منتقل کردیا گیا۔مذکورہ ملزم نے لوگوں کو پھاٹک بند کرنے پر آمادہ کیا ۔
اس کے بعد کئی لوگ یہ سوالات اٹھا رہے ہیں کہ فیلڈ میں ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکار سوشل میڈیا استعمال کیوں کررہے تھے ؟ اگر انہیں سوشل میڈیا ہی استعمال کرنا ہے تو تھانے بیٹھیں اور پھر انہیں یہ کس قانون نے اجازت دی کہ کسی بھی ایسے شخص جس پر صر ف شبہ ہو، اس کے موبائل فونز کی بھی جانچ پڑتال کی جائے؟
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ لاہور میں بھی ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ ناکے لگا کر پولیس اہلکار لڑکوں کو روکتے ہیں اور موبائل میں موجود گیمز کی بنیاد پر انہیں جوئے کے مقدمے کی دھمکیاں دے کر ڈرایا دھمکایا جاتا ہےا ور پھر رشوت بٹوری جاتی ہے۔