جرمنی : سکھوں کی عبادت گاہ میں ہنگامہ آرائی، گولیاں چل گئیں
جرمنی کی ریاست نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے شہر مورز میں واقع ایک سکھ عبادت گاہ میں مالی اور انتظامی تنازع پر ہونے والی پُرتشدد جھڑپ میں 40 سے زائد افراد آپس میں گتھم گتھا ہو گئے، جس کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد زخمی ہو گئے جبکہ پولیس نے بڑے پیمانے پر آپریشن کرتے ہوئے خصوصی یونٹس کو طلب کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب گردوارہ سنگھ سبھا میں موجود دو گروپوں کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جھڑپ کی بنیادی وجہ گردوارے کے مالی معاملات اور انتظامی کنٹرول پر اختلاف تھا، تاہم جرمن پولیس نے تاحال کسی حتمی وجہ کی تصدیق نہیں کی۔
رپورٹس کے مطابق تصادم کے دوران 40 سے زائد افراد مرچوں کے اسپرے، چاقوؤں، کرپانوں اور مبینہ طور پر آتشیں اسلحے سے لیس تھے۔ ایک گروہ کی جانب سے مبینہ طور پر منظم حملہ کیا گیا، جس میں مخالفین کو منتشر کرنے کے لیے پہلے مرچوں کا اسپرے کیا گیا، بعد ازاں چاقوؤں اور ایک آتشیں ہتھیار سے حملے کیے گئے۔ حملہ پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق عبادت سے کچھ دیر قبل حملہ آوروں نے مرچوں کا اسپرے کیا اور پھر ایک شخص نے پستول سے فائر بھی کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تشدد گردوارہ کمیونٹی کے اندر طویل عرصے سے جاری تنازع کا نتیجہ ہے، جو کمیٹی کے کنٹرول، اثر و رسوخ اور مالی معاملات کے گرد گھومتا ہے۔ ایک اور عینی شاہد کے مطابق یہ جھگڑا سابق اور موجودہ کمیٹی اراکین کے درمیان تھا، جس میں کمیونٹی کی رقم بھی شامل ہے۔
آزاد صحافی رویندر سنگھ رابن کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی گئی ویڈیو میں ایک شخص نے دعویٰ کیا کہ جھڑپ گردوارے کی گولک پر تنازع اور سابق انتظامیہ کی جانب سے دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کے باعث ہوئی، جنہیں پہلے ووٹنگ کے ذریعے ہٹا دیا گیا تھا۔واقعے کے دوران متعدد عبادت گزار خوفزدہ ہو کر گردوارے سے باہر نکل گئے۔ ایک عینی شاہد کے مطابق کئی لوگ عمارت سے بھاگ نکلے، جن میں بعض ننگے پاؤں بھی تھے۔
رپورٹ کے مطابق زخمیوں کی تعداد 11 ہے جن میں زیادہ تر کے سر پر چوٹیں آئیں۔ جائے وقوعہ پر موجود پیرامیڈکس اور ایمرجنسی ڈاکٹرز نے فوری طبی امداد فراہم کی۔واقعے کی شدت کے پیش نظر 100 سے زائد پولیس اہلکاروں نے علاقے کا محاصرہ کر کے بڑا آپریشن کیا۔ بھاری ہتھیاروں سے لیس اہلکاروں نے پوزیشن سنبھالی جبکہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے فضائی نگرانی بھی کی گئی۔ حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔