کاٹن ایکس چینج کی عمارت 4 ماہ سے سربمہر، پاکستان عالمی کاٹن مارکیٹس میں نمائندگی سے محروم
امریکا ایران کشیدگی کے باعث پاکستانی روئی کی درآمدات اور کاٹن پراڈکٹس کی برآمدی سرگرمیاں متاثر ہونے کے ساتھ 4 ماہ سے کاٹن ایکس چینج کی عمارت سربمہر ہونے سے کے سی اے اسپاٹ ریٹ بھی بدستور معطل ہیں۔کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کے عدم اجراء کے سبب گزشتہ ساڑھے چار ماہ سے ایک بڑا پروڈیوسر ہونے کے باوجود پاکستان عالمی کاٹن مارکیٹس میں نمائندگی سے محروم ہے، اسپاٹ ریٹ کے عدم اجراء سے مقامی بینکنگ انڈسٹری کو بھی ٹیکسٹائل ملوں اور جننگ فیکٹریوں کو اسپاٹ ریٹ کی بنیاد پر قرضوں کے اجرا میں دشواریوں کا سامنا ہے جبکہ انشورنس کمپنیوں کو بھی کاٹن فائر کلیمز کے تصفیوں میں مشکلات درپیش ہیں۔ 12دسمبر 2025 کو ملکیتی تنازع کی بنیاد پر کے سی اے کی بلڈنگ کو سربمہر کر دیا گیا تھا جس کے بعد عدالت عالیہ میں یہ معاملہ زیر سماعت ہے لیکن عمارت ڈی سیل نہ ہونے سے کے سی اے کی جانب سے کاٹن اسپاٹ ریٹ کا اجراء تاحال معطل ہے۔
درجہ حرارت میں اچانک اضافے سے پاکستان کے متعدد کاٹن زونز میں کپاس کی بوائی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ سندھ کے ان ساحلی علاقوں جہاں کپاس کی بوائی فروری اور مارچ میں کی گئی تھی وہاں کپاس کی چنائی جلد ہونے سے پاکستان میں نیا کاٹن جننگ سیزن تاریخ میں پہلی بار مئی کے وسط میں شروع ہونے کا امکان ہے جو مقامی ٹیکسٹائل ملوں کے لیے کپاس کی نئی فصل کی روئی کی جلد دستیابی کا باعث بنے گی۔
کچھ عرصہ قبل مئی کی مختلف تاریخوں کو ڈلیوری کی بنیاد پر سندھ کے کئی ساحلی علاقوں میں کپاس کی نئی فصل جبکہ سانگھڑ اور بورے والا میں نئی روئی کی خرید فروخت کے پیشگی سودوں کا تیزی سے آغاز ہوا تھا اور اس دوران کپاس کے سودے 10ہزار سے 10ہزار 500روپے فی 40 کلو گرام جبکہ روئی کے سودے 21ہزار 500روپے فی من میں طے ہوئے تھے تاہم اب ان میں تیزی کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں کیونکہ خلیج میں جنگی حالات کی وجہ روئی کی درآمدی سرگرمیاں معطل ہیں۔
Leave A Comment