تازہ ترین

بھارتی ریاست منی پور میں مودی حکومت کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے خطرناک صورتحال اختیار کر لی ہے جہاں مشتعل عوام اور سیکیورٹی فورسز کے مابین شدید جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے اور حالات قابو سے باہر دکھائی دیتے ہیں۔ضلع بشنو پور میں ہونے والے حالیہ فسادات نے پورے خطے میں خوف و ہراس کی فضا قائم کر دی ہے جہاں مقامی آبادی نے بھارتی سیکیورٹی فورسز کے خلاف محاذ کھول لیا ہے۔ مظاہرین نے فورسز کو علاقے میں داخل ہونے سے سختی سے روک دیا ہے۔علاقے میں کشیدگی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ مقامی افراد نے نہ صرف بھارتی فورسز کی 2 گاڑیوں کو آگ لگا دی بلکہ متعدد فوجیوں کو یرغمال بھی بنا لیا ہے۔جھڑپوں کے دوران فورسز کی جانب سے شدید شیلنگ کی گئی جس سے کئی افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی سرکار منی پور میں نسلی فسادات کو روکنے کے بجائے خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ حکومت سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے حکومت خود ان حالات کو مزید ہوا دے رہی ہے تاکہ اپنے مذموم ایجنڈے کو آگے بڑھایا جا سکے۔

تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ بھارتی فوج اپنے فرائض کی انجام دہی کے بجائے ایک دہشت گرد تنظیم کا روپ دھار چکی ہے جو اپنے ہی شہریوں کی جان و مال کو نشانہ بنانے میں مصروف ہے۔ اس صورتحال نے بھارت میں علیحدگی پسند تحریکوں کو نئی زندگی دے دی ہے۔

منی پور میں مسلسل جاری ان پرتشدد واقعات نے مودی حکومت کی داخلی پالیسیوں پر بڑے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اگر فوری طور پر ان نسلی فسادات کو کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ آگ دیگر ریاستوں تک بھی پھیل سکتی ہے جس سے بھارت کا داخلی استحکام بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

 حکومت کی جانب سے اب تک کسی ٹھوس لائحہ عمل کا اعلان نہیں کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے طاقت کا بے جا استعمال عوام اور ریاست کے درمیان خلیج کو مزید وسیع کر رہا ہے۔

 

Leave A Comment

Advertisement