تازہ ترین

سائنسدانوں نے یہ امکان ظاہر کیا ہے کہ ہماری کائنات کو چلانے والی چار معلوم بنیادی قوتوں کے علاوہ ایک پراسرار ’پانچویں قوت‘ بھی موجود ہو سکتی ہے، جو کہکشاؤں کی ترتیب اور کائنات کے پھیلاؤ کے پیچھے چھپا اصل محرک ہو سکتی ہے۔یہ نظریہ موجودہ طبیعیات کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس کی تصدیق ہماری کائنات سے متعلق موجودہ سائنسی سمجھ کو یکسر بدل سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک سائنس چار بنیادی قوتوں کو تسلیم کرتی ہے، کششِ ثقل، برقی مقناطیسیت، مضبوط نیوکلیئر قوت اور کمزور نیوکلیئر قوت، یہ تمام قوتیں کائنات کے بیشتر مظاہر کو بیان کرتی ہیں، تاہم سائنسدانوں کے مطابق یہ تصویر ابھی مکمل نہیں۔تحقیق کے مطابق کائنات کا تقریباً 95 فیصد حصہ ’ڈارک میٹر‘ اور ’ڈارک انرجی‘ پر مشتمل ہے، جو اب تک براہِ راست مشاہدے میں نہیں آ سکے، سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ممکنہ پانچویں قوت ان پراسرار اجزاء اور نظر آنے والے مادی جہان کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر سکتی ہے۔

ماہر طبیعیات ڈاکٹر سلاوا جی تریشیف کے مطابق اس نظریے کو جانچنے کے لیے زمین اور چاند کے درمیان فاصلے کی نہایت درست پیمائش لیزر شعاعوں کے ذریعے کی جا سکتی ہے، اگر کششِ ثقل کے موجودہ حسابات اور تجرباتی نتائج میں معمولی سا بھی فرق سامنے آیا تو یہ ایک نئی قوت کے وجود کا اشارہ ہو سکتا ہے۔اگرچہ یورپی خلائی مشنز اربوں کہکشاؤں کا مشاہدہ کر رہے ہیں، لیکن ماہرین کا اصرار ہے کہ اس ممکنہ قوت کی تصدیق کے لیے ہمیں اپنے نظامِ شمسی میں زیادہ کنٹرولڈ اور درست تجربات پر توجہ دینا ہوگی۔

ماضی میں بھی اس حوالے سے کچھ دلچسپ شواہد سامنے آئے ہیں، 2015 میں ہنگری کے سائنسدانوں نے ایک غیر معمولی مشاہدہ کیا تھا جسے بعد ازاں ’ایکس بوسون‘ نامی ممکنہ نئے ذرے سے جوڑا گیا، جو ایک نئی قوت کی علامت ہو سکتا ہے۔حالیہ تجربات میں بھی بعض ایسے نتائج سامنے آئے ہیں جو موجودہ سائنسی ماڈلز سے مکمل مطابقت نہیں رکھتے، جس سے یہ سوال مزید تقویت پکڑ رہا ہے کہ کیا واقعی کائنات میں کوئی اضافی قوت موجود ہے۔سائنسدانوں کے مطابق اگر ’پانچویں قوت‘ کا وجود ثابت ہو گیا تو یہ نہ صرف طبیعیات کے بنیادی اصولوں میں انقلابی تبدیلی لائے گا بلکہ کائنات کے آغاز، ساخت اور مستقبل کو سمجھنے کے لیے ایک نیا دروازہ بھی کھول دے گا۔

 

Leave A Comment

Advertisement