خوشبو کی شاعرہ ، پروین شاکر کی 73 ویں سالگرہ آج
خوشبو کی شاعرہ پروین شاکر کے مداح آج ان کی 73ویں سالگرہ منارہے ہیں، اپنے پہلے مجموعے کی مناسبت سے ہی پروین شاکر خوشبو کی شاعرہ کہلاتی ہیں۔
24 نومبر 1952ء کو پروین شاکر کراچی کے ایک اسپتال میں افضل النساء اور سید ثاقب حسین زیدی کے ہاں پیدا ہوئی تھیں۔پروین شاکر کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی ،بعد میں رضیہ گرلز ہائی اسکول کراچی میں داخلہ لیا، جہاں سے انھوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور پھر سرسید گرلز کالج کراچی سے انگلش لٹریچر میں بی اے آنرز کیا۔1972ء میں کراچی یونیورسٹی سے ایم اے انگریزی کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا، پھر وہیں سے لسانیات میں بھی ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔اس کے بعد پی ایچ ڈی کے لیےذرائع ابلاغ کا کردار‘ پر مقالہ لکھا، جسے وہ پیش نہ کرسکیں کیونکہ اسی دوران وہ ہارورڈ یونیورسٹی امریکا سے وابستہ ہو گئیں، جہاں سے انھوں نے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کیا۔
تعلیمی سلسلہ ختم ہوا تو انھوں نے عبداللّٰہ گرلز کالج کراچی میں انگریزی لیکچرر کی حیثیت سے ملازمت اختیار کر لی۔ 9 برس تک وہ درس و تدریس کی خدمات انجام دیتی رہیں۔ اس کے بعد سول سروسز یعنی سی ایس ایس کا امتحان دیا اور کامیاب ہوئیں۔کامیاب ہونے کے بعد محکمہ کسٹمز میں کلکٹر ہو گئیں۔ اس عہدے سے ترقی کرتے ہوئے پرنسپل سیکریٹری اور پھر سی۔ آر۔ بی۔آر اسلام آباد میں مقرر ہوئیں۔
میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
وہ جھوٹ بولے گا اور لا جواب کر دے گا
پروین شاکر کی شاعری خو شبو کی طرح لوگوں کے ذہنوں میں بسی ہوئی ہے ۔ ان کی پہلی کتاب’’ خوشبو‘‘ کو 1976 میں آدم جی ایوارڈ اور پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ بھی متعدد اعزازات و اسناد سے نوازا گیا۔
Leave A Comment